1. Skip to Menu
  2. Skip to Content
  3. Skip to Footer>

جامعہ اشرفیہ لاہور کا فتوی

PDF Print E-mail


عقیدہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منکر امام کے بارے میں رائے ونڈ مرکز کے امام اور مقیم مولانا جمیل صاحب اور جامعہ اشرفیہ لاہور کے مفتی شیر محمد علوی صاحب کی گفتگو

سلام مسنون کے بعد۔۔۔۔۔۔

مفتی شیر محمد صاحب: جی

مولانا محمد جمیل :  محمد جمیل بات کر رہا ہوں رائے ونڈ سے

مفتی شیر محمد علوی:  اھلاوسھلا اھلا وسھلا مرحبا

مولانا جمیل: آپ مفتی صاحب خیریت سے ہیں

مفتی صاحب۔ اللہ کا احسان الحمد اللہ بارک اللہ تعالی فی الدرین

مولانا جمیل:  میرے پاس تقریبا چالیس آدمی سرگودھا سے آئے بیٹھے ہیں ایک امام کے بارے میں

مفتی صاحب: اچھا، اللہ خیر کرے۔۔۔

مولانا جمیل: امام کا عقیدہ جو مماتیوں کاعقیدہ ہے وہ ہے اور یہ لوگ کہتے ہیں ان کے پیھیے نماز نہیں ہوتی۔

مفتی صاحب: جی

مولنا جمیل:  یہ میرے پاس اب سارے بیٹھے ہیں وہ امام بھی بیٹھا ہے عقیدہ اس کا مماتیوں والا ہے اب یہ کہہ رہا ہے جو علماء دیوبند کا عقیدہ ہے وہی میرا عقیدہ ہے اب یہاں پر اجمالی یہ کہہ رہا ہے یہ پوچھتے ہیں کہ مفتی صاحب بتائیں اس کے پیھیے ہماری نماز ہو تی ہے کہ نہیں ہوتی؟

مفتی صاحب: اس سے علماء دیوبند کے عقیدہ کی وضاحت پوچھنی چاہیے کہ وہ علماء دیوبند کا عقیدہ کیا مانتا ہے حیات الانبیاء علیہم السلام کے بارے میں؟

مولنا جمیل صاحب )مماتی مولوی سے( بتاکھڑے ہو کر بول ان کو بھی سنا مفتی صاحب بھی سنیں

مماتی مولوی: میرا عقیدہ حیات الانبیاء کا عالم برزخ میں ان کی حیات ہے

مفتی صاحب: ۔برزخ سے کیا مراد ہے ؟؟

مماتی مولوی: قبر میں

مفتی صاحب:  روح کا تعلق بدن سے ہے کہ نہیں ؟؟

مماتی مولوی:  تھوڑا سا۔۔۔ جیسے علماء دیوبند کہہ رہے ہیں۔

مفتی صاحب: نہیں نہیں پوری بات بتائو گڑبڑ نہ کرو۔ علماء دیوبند کا عقیدہ یہ ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر تمام انبیاء کرام علیہم السلام اپنی قبروں مین زندہ ہیں بتعلق روح۔ روح کا تعلق ہے اور وہاں پڑھا گیا صلوۃ اسلام خود سنتے ہیں دور سے پڑھا جاءے تو فرشتے پہنچاتے ہیں یہ ہے علمائے دیوبند کا عقیدہ۔

مماتی مولوی: میں اس کا اقرار کرتا ہوں

مفتی صاحب: تعلق روح اور صلوۃ سلام کے سماع کے ساتھ؟ دیکھو مولوی صاحب جھوٹ نہ بولو یہ کہ دنیا کی زندگی جوچند روزہ ہے ختم ہو جائے گی امامت آپ کو اور مل جائے گی صرف امامت بچانے کے لیے جھوٹ مت بولنا۔

مماتی مولوی: جھوٹ نہیں سچ کہہ رہا ہوں۔

مفتی صاحب: آپ کا مماتیوں کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ یہ آپ کی شکایت کیوں لے کر آئے ہیں؟

مولانا محمد جمیل: بول مفتی صاحب فرماتے ہیں کہ مماتیوں کے ساتھ آپ کا کیا تعلق ہے یہ لوگ شکایت کیوں لے کر آئے؟

مماتی مولوی:  کیونکہ شرک کے موضوع پر جب میں بیان کرتا ہوں اس وقت میں آیات وغیرہ پڑھتا ہوں تو اس سے ان کو اشکال ہے میں عام بیان کرتا ہوں یہ اس طرف لے آتے ہیں۔

مفتی صاحب:  آخر ہم لوگ بھی بیان کرتے ہیں ہمارے بارے میں ہمارے مقتدی یہ نہیں کہتے

مماتی مولوی:  جو قرآن میں توحید والی آیات ہیں جب ان کو بیان کرتا ہوں لا یسمعون وغیرہ

مفتی صاحب:  میرے عزیز سارے علماء دیوبند آیات توحید بیان کرتے ہیں لیکن کبھی حیات انبیاء کے انکار کا شبہ بھی پیدا نہیں ہوتا کوئی مقتدی شکایت لے کر نہیں آیا آپ کے بارے میں یہ شکایت کیوں آئی ہے؟ آخر کوئی بات ہو گی جو یہ شکایت لے کر آئے پہاں۔ آپ نے پڑھا کہاں ہے ؟

مماتی مولوی: میں نے پڑھا ہے جامعہ صدیقیہ اشاعت التوحید گوجرانوالہ میں

مفتی صاحب: قاضی شمس الدین کا؟

مماتی مولوی:  جی

مفتی صاحب:  وہا ں تو یہ پڑھایا جاتا ہے جو عقیدہ مماتیوں کا ہے۔

مماتی مولوی:  جی ہاں

مفتی صاحب:  تو پھر ان کا اشکال صحیح ہے۔

مماتی مولوی: جی ہاں

مفتی صاحب:  پھر آپ اپنی امامت بچانے کے لیے یہ بات کر رہے ہیں میرے عزیز ایسا نہیں کرنا چاہیے امامت اور مل جائے گی آپ کو۔ اگر آپ علماء دیوبند کو حق سمجھتے ہیں اور یقینا وہی حق ہیں اور ان کا عقیدہ المہند کے اندر لکھا ہوا ہے اور یہ سارے علماء دیوبند اس بات کے قائل ہیں کہ سارے انبیاء علیہم السلام اپنی قبروں میں زندہ ہیں بتعلق روح اور وہاں پڑھا گیا صلوۃ وسلام خود سنتے ہیں دور سے پڑھا جائےتو فرشتے سناتے ہیں مولانا سرفراز نے اس پر کتاب لکھی ہے تسکین الصدور جو کہ کئی سو صفحے کی کتاب ہے اورآب حیات حضرت نانوتوی نے کتاب لکھی اور نامعلوم کنتے حضرات نے اس پر لکھا ہے علامہ خالد صاحب نے مقام حیات لکھی ہے تو آپ لوگوں کو دھوکہ نہ دیں جو صحیح بات ہے وہی کہنی چاہیے۔

مولانا جمیل:  اس کے پیچھیے اب مقتدی نماز پڑھیں کیا کریں۔

مفتی صاحب:  مفتی صاحب یہ تو بات صاف نہیں کر رہا یہ تقیہ کر رہا ہے تقیہ۔

مولانا جمیل: اب تقیہ کر رہا ہے تو مقتدیوں کو کیا حکم ہے۔

مفتی صاحب: جن کو امام رکھنے ہٹانے کا اختیار ہے ان کی نماز ان کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہو گی یہ اہل بدعت میں سے ہیں۔

مولانا محمد جمیل:  یہ اہل بدعت ہیں نماز مکروہ تحریمی ہو گی یہ مفتی صاحب فرما رہے ہیں۔

مفتی صاحب:  اور واجب الاعادہ ہو گی جن لوگوں کو امام کے رکھنے ہٹانے کا اختیار ہے اور جن لوگوں کو اچھا امام مل سکتا ہے متبع سنت صحیح العقیدہ ان کی نماز بھی ان کے پیچھے مکروہ تحریمی ہو گی۔

مولانا محمد جیمل:  اللہ تعالی آپ کو جزائے خیر دے ۔


تمام حضرات کی خدمت میں گذارش ہے کہ اگر آپ کو سائیٹ Exploreکرتے ہوئے کوئی Errorنظر آئے تو Contact Usکے پیچ پر جا کر ہمیں اس سے ضرور مطلع فرمائیں۔ اورمزید اپنی آراء سے ہمیں مطلع فرمائیں تاکہ سائیٹ کو مزید بہتر کیا جا سکے۔